Skip to main content

ضرورت کیلئے تو صحیح ، مگر تفریح اور فیشن کیلئے تصویروں کا استعمال اسلام میں مناسب نہیں : مفتی ابولقاسم نعمانی


ضرورت کیلئے تو صحیح ، مگر تفریح اور فیشن کیلئے تصویروں کا استعمال اسلام میں مناسب نہیں : مفتی ابولقاسم نعمانی
ضرورت کیلئے تو صحیح ، مگر تفریح اور فیشن کیلئے تصویروں کا استعمال اسلام میں مناسب نہیں : مفتی ابولقاسم نعمانی



دیوبند: دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے دارالعلوم دیوبند کے اس فتوی کی حمایت کی ہے ، جس میں دار العلوم نے کہا ہے کہ اسلام میں خواتین کا وہائٹس ایپ، فیس بک اور ٹوئٹر جیسے سوشل میڈیا پر تصویر اپ لوڈ کرنا جائز نہیں ہے۔ خیال رہے کہ ایک شخص نے دارالعلوم کے شعبہ فتوی سے سوال کیا تھا کہ کیا مردوں کا اپنی خواتین کے ساتھ وہاٹس ایپ ، ٹوئٹر اور فیس بک پر تصویر ڈالنا جائز ہے۔ اس کے جواب میں کہا گیا ہے کہ ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔دارالعلوم کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی کا کہنا ہے کہ اسلام میں تصویراتروانا اور اس کا غیر ضروری استعمال درست نہیں سمجھا گیا ہے۔ قانونی ضرورتوں کے لئے مثلاً پاسپورٹ، اسکول ، کالج وغیرہ میں داخلہ اور دیگر ضروری امور میں تصویر کا استعمال تو درست ہے لیکن تفریح اور فیشن پرستی کے لئے تصویروں کا استعمال مناسب نہیں سمجھا جاتا ہے۔مولانا نعمانی نے کہا کہ اب جب کہ آج کے دور میں یہ چیزیں عام زندگی کا حصہ ہوگئی ہیں ، انہیں روکنا تو ممکن نہیں ہے لیکن مذہبی اعتبار سے اسے درست نہیں کہا جاسکتا۔ ایک دیگر مدرسہ جامعہ حسینیہ کے مفتی طارق قاسمی نے دارالعلوم کے فتوے کی حمایت کی ہے۔۔
بشکریہ یواین آئی

Comments

Popular posts from this blog

Tableeghi Jamat

AD تعارف تقریبا ایک صدی قبل متحدہ ہندوستان کے ایک بہت بڑے عالم اور بزرگ حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رحمہ اللہ نے دیکھا کہ ہندوستان کے بعض علاقوں میں مسلمان صرف اسلام کا نام تو جانتے ہیں مگر ان کا کلمئہ اسلام : " لا الٰہ اللہ محمد الرسول اللہ " کا صحیح تلفط تک بھی نہیں آتا۔ لہٰذا مسلمانوں کی یہ حالت دیکھ کر حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کو دکھ اور صدمہ ہوا اور سوچنے لگے کہ مسلمانوں کی اصلاح اور تربیت کے لیے کس طرح کام شروع کیا جائے؟ چنانچہ اس مقصد کے لیے انہوں نے حج کا سفر اختیار کیا، وہاں جا کر مشاعر حج اور حرمین شریفین میں مقدس مقامات پر نہایت عجز و انکساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے رہے کہ : اے اللہ ! میرے لیے عام مسلمانوں مین دعوت کا راستہ کھول دے، اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور اس کے لیے ان کا سینہ کھول دیا گیا۔ چنانچہ آپ حج کے بعد ہندوستان واپس تشریف لائے اور ہندوستان کے دارالحکومت دہلی سے باہر بستی نظام الدین سے دعوت کا کام شروع کر دیا۔ آپ کا معمول تھا کہ آپ شہر کے بازاروں، گاوں اور قصبوں میں جاتے اور مسلمانوں کو اللہ کی طرف دع...

NAAT LYRICS - ARAB KE CHAND SA HASSEN kOI NHI KOI NHI

Arab ke chand sa haseen koi nahi koi nahi Arab ke chand sa haseen koi nahi koi nahi koi nahi koi nahi arab ke chand sa haseen Ye aasman ye zameen,ye mahr-o maah dil nasheen Naseem-e subh-e anbareen bahar-e husn-e aafreen Gulaab ho ke yasmeen kisi ne dekha he kaheen Arab ke chand sa haseen,nahi nahi nahi nahi Arab ke chand sa haseen koi nahi koi nahi Arab ke chand sa haseen koi nahi koi nahi Arab ke chand sa haseen koi nahi koi nahi koi nahi koi nahi arab ke chand sa haseen Sitaare unki raah me,zamana unki chaah me Nabi ki khaanqah me,hen do jahan panaah me Sitaare unki raah me,zamana unki chaah me Nabi ki khaanqah me,hen do jahan panaah me Maqaam ap ka he wo,jahaan kabhi puhanch sake Khayal wehm or yaqeen,nahi nahi nahi nahi Arab ke chand sa haseen koi nahi koi nahi Arab ke chand sa haseen koi nahi koi nahi Arab ke chand sa haseen koi nahi koi nahi koi nahi koi nahi arab ke chand sa hasee Wo ja rahe hainn arsh par, bulandiyon ka he safar Ke sidra bhi he rahguzar,hen aap sab ke...