Skip to main content

مختلف طبقوں میں جوڑ کا آسان طریقہ...

مختلف طبقوں میں جوڑ کا آسان طریقہ...

چیزوں سے کامیابی کا یقین ہٹانے اور اللہ سے کامیابی کا یقین جمانے کیلیے کچھ مدت کیلیے چیزوں میں سے نکلنا ہوگا--ایمان کی مجلسوں میں بیٹھ کر ایمان کی باتیں سننا سنانا ہوگا، نماز کے فضائل اور اس کے برکات معلوم کر کے اس یقین کے ساتھ نماز میں لگنا ہوگا کہ ہم خدا میں لگیں گے تو خدا ہم کو نوازیں گے، اسی طرح اذکار و تسبیحات کے فضائل معلوم کر کے ان کے یقین کے ساتھ ان میں لگنا ہوگا، دوسروں کے ساتھ اچھے سلوک اور خدمت کی مشق اس یقین کے ساتھ کرنی ہوگی کہ ہم جتنا اچھا سلوک اللہ کے بندوں کے ساتھ کرینگے ویسا ہی اچھا سلوک اللہ تعالی اپنی شان عالی کے مطابق ہمارے ساتھ کرینگے خاصکر ایمان کی نسبت سے ہر مسلم کے اکرام کی اور اپنے کو حقیر و کمتر سمجھنے کی مشق کرنی ہوگی--ان باتوں کی دوسروں کو بھی دعوت اپنی حاجت سمجھ کر اس یقین کے ساتھ دینی ہوگی کہ جب میں اللہ کے دوسرے بندوں میں اس کیلیے کوشش اور محنت کرونگا اور اس راستہ میں تکلیفیں اور ذلتیں اٹھاوں گا تو اللہ مجھے ان چیزوں سے محروم نہ رکھیں گے---اس کی بھی مشق کرنی ہوگی کہ یہ سارے کام صرف اللہ کی رضا کیلیے ہوں-اس طرح کچھ مشق کر لینے سے انشاء اللہ سب طبقوں میں جوڑ کی شکل پیدا ہو جائے گی--
(بیان...حضرت جی مولانا یوسف صاحب رح..آخری سفر کے اجتماع کے بیان سے ماخوذ)
------------------------------------
#copy

Comments

Popular posts from this blog

Tableeghi Jamat

AD تعارف تقریبا ایک صدی قبل متحدہ ہندوستان کے ایک بہت بڑے عالم اور بزرگ حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رحمہ اللہ نے دیکھا کہ ہندوستان کے بعض علاقوں میں مسلمان صرف اسلام کا نام تو جانتے ہیں مگر ان کا کلمئہ اسلام : " لا الٰہ اللہ محمد الرسول اللہ " کا صحیح تلفط تک بھی نہیں آتا۔ لہٰذا مسلمانوں کی یہ حالت دیکھ کر حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کو دکھ اور صدمہ ہوا اور سوچنے لگے کہ مسلمانوں کی اصلاح اور تربیت کے لیے کس طرح کام شروع کیا جائے؟ چنانچہ اس مقصد کے لیے انہوں نے حج کا سفر اختیار کیا، وہاں جا کر مشاعر حج اور حرمین شریفین میں مقدس مقامات پر نہایت عجز و انکساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے رہے کہ : اے اللہ ! میرے لیے عام مسلمانوں مین دعوت کا راستہ کھول دے، اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور اس کے لیے ان کا سینہ کھول دیا گیا۔ چنانچہ آپ حج کے بعد ہندوستان واپس تشریف لائے اور ہندوستان کے دارالحکومت دہلی سے باہر بستی نظام الدین سے دعوت کا کام شروع کر دیا۔ آپ کا معمول تھا کہ آپ شہر کے بازاروں، گاوں اور قصبوں میں جاتے اور مسلمانوں کو اللہ کی طرف دع...

NAAT LYRICS - ARAB KE CHAND SA HASSEN kOI NHI KOI NHI

Arab ke chand sa haseen koi nahi koi nahi Arab ke chand sa haseen koi nahi koi nahi koi nahi koi nahi arab ke chand sa haseen Ye aasman ye zameen,ye mahr-o maah dil nasheen Naseem-e subh-e anbareen bahar-e husn-e aafreen Gulaab ho ke yasmeen kisi ne dekha he kaheen Arab ke chand sa haseen,nahi nahi nahi nahi Arab ke chand sa haseen koi nahi koi nahi Arab ke chand sa haseen koi nahi koi nahi Arab ke chand sa haseen koi nahi koi nahi koi nahi koi nahi arab ke chand sa haseen Sitaare unki raah me,zamana unki chaah me Nabi ki khaanqah me,hen do jahan panaah me Sitaare unki raah me,zamana unki chaah me Nabi ki khaanqah me,hen do jahan panaah me Maqaam ap ka he wo,jahaan kabhi puhanch sake Khayal wehm or yaqeen,nahi nahi nahi nahi Arab ke chand sa haseen koi nahi koi nahi Arab ke chand sa haseen koi nahi koi nahi Arab ke chand sa haseen koi nahi koi nahi koi nahi koi nahi arab ke chand sa hasee Wo ja rahe hainn arsh par, bulandiyon ka he safar Ke sidra bhi he rahguzar,hen aap sab ke...